Tuesday, 3 July 2018

اصلی شہد کی شناخت کرنے کا آسان طریقہ

اصلی شہد کی شناخت کرنے کا آسان طریقہ

شہد کو روٹی میں تر کر کے اس کو آگ لگائی جائے تو اصلی شہد سالم جل جاتا ہے اگر مصنوعی ہو تو اس کا کوئلہ رہ جاتا ہے۔ یاد رہے اصلی شہد بڑی تیزی کے ساتھ اسپرٹ کی طرح جل جاتا ہے۔
اگر اصلی شہد روٹی وغیرہ میں ملا کر کتے کے سامنے ڈال دیا جائے تو وہ اس کو ہرگز نہیں کھائے گا۔

شہد کو بوتل یا ڈبے میں سے تار بنا کر نکالیں ۔خالص شہد ایک دم نہیں گرے گا بلکہ تھوڑا تھوڑا نکلے گا اور لہراتا ہوا گرے گا۔

شہد میں مکھی کے پر لتھڑ کر چھوڑ دیں ۔ شہد اصلی ہوگا تو مکھی تھوڑی ہی دیر میں اپنے پر چاٹ کر صاف کر لے گی اور پھر آسانی سے اڑ جائے گی ۔ نقلی ہوگا تو کوشش کے باوجود مکھی نہ تو اپنے پروں کو صاف کرنے میں کامیاب ہو سکے گی اور نہ ہی اڑ سکے گی۔
اگر اصلی شہد کا پتہ لگانا ہو تو کاغذ یا کپڑے پر شہد کا قطرہ ڈال کر اسے ترچھا کریں اگر شہد کا غذ پر لگے بغیر پھسل جائے تو سمجھو شہد اصلی ہے۔
ہر اصلی غذا اور خوراک کے ساتھ ہمارا علاقائی مسئلہ یہ ہے کہ خالص اشیاء کا ملنا محال ہے ۔ لالچی دکاندار نقلی اشیاء فروخت کر کے زیادہ نفع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین۔

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور شہد

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور شہد

شہد کے متعلق جو کہا گیا ہے اورلکھا گیا ہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہر ایک بات اپنی جگہ اہم ہے۔ شہد کی افادیت کے متعلق جتنا بھی کہا جائے بہت کم ہی ہوگا، شہد کے بارے میں جو ذکر ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ حرف آخر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زیادہ با ر شہد کی افادیت بیان فرمائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں ۔
اے لوگوں ! قرآن اور شہد کو مضبوطی سے پکڑلو۔
ایک اور واقع میں حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت جلال سے فرمایا۔
خدا کی قسم تمھارے بھائی کے پیٹ کا درد جھوٹا ہو سکتا ہے مگر شہد نہیں۔
بحیثیت مسلمان ہمارے لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس رشد و ہدایت کا ایک ایسا نمونہ ہے جس کی مثال قیامت تک نہیں مل سکتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سادگی کو ہمیشہ اپنا شعار بنایا ۔ غذا میں بھی سادگی کو پسند فرمایا ، سادہ غذائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ تناول فرماتے تھے ۔ پر لطف غذاؤ ں سے ہمیشہ اجتناب فرماتے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تمام عمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپاتی نہیں کھائی ۔ علامہ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چپاتی نہ کھانا حرمت کی بناء پر نہیں تھا بلکہ باریک اور پتلی روٹی چونکہ عیش پرستوں کی غذا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تمام عمر تناول نہیں فرمایا۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعہ سے یہ بات روشن ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عیش پرستوں کے طور طریقوں سے اجتناب فرمایا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور طریقہ مبارک یہ تھا کہ دسترخوان پر غذا کو رد نہیں فرماتے ۔ ادھر ادھر ہاتھ نہ بڑھاتے ۔ کھانا بھوک رکھ کر تناول فرماتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن کی یہ شان ہے کہ وہ کم غذا کھائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی من پسند غذائیں کھجور، چھوہارہ، دودھ ، پیلوکا پھل، گوشت، پنیر، تزید، تلبیذ، کدو، ککڑی، حلیس مسلوقہ ، حلوہ اور شہد تھیں۔
آئیے اب ہم شہد کے بارے میں پیارے آقا و مولا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ترجمہ کا مطالعہ کرتے ہیں کہ اس شفاء بخش قدرتی غذا میں اور دوا کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا کیا ارشادات عالی منقول ہیں۔
اماں عائشہ صدیقہ طیبہ و طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حلوے اور شہد سے زیادہ محبت رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفاتین چیزوں میں ہے، حجام کے نشتر میں ، شہد پینے میں، آگ سے داغ لگانے میں۔مگر میں اپنی امت کو داغ لگانے سے روکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا کہ سنا اور سنوت کو نہ چھوڑو۔ جیسا کہ ہم نے اس کے متعلق اور بھی بیان کیا ہے کہ شہد کو عربی میں سنوت کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں موت کے سوا ہر مرض کی دوا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ جو شخص ہر مہینے تین دن صبح کے وقت شہد چاٹا کرے اسے کوئی بڑی سے بڑی بلا بھی تکلیف نہیں دے سکتی۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شہد ہر جسمانی مرض کے لئے شفاء ہے اور قرآن کریم ہر روحانی مرض کے واسطے دوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن اور شہد دوناں شفاؤں کو تھامے رکھو۔ حضرت ابع خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں ، میں نے اس کو شہد پلایا مگر اسکے اسہال زیادہ ہوگئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ایسا ہی فرمایا پھر پلاؤ، چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے شہد پلاؤ ۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اسے شہد پلایا لیکن اسہال زیادہ ہوگئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور اللہ کریم کا ارشاد سچا ہے ، اسے پھر شہد پلاؤ۔ چناچہ اسے پھر شہد پلایا گیا اور وہ صحت یاب ہوگیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے قرآن شریف اور حدیث پاک کے علم سے فیضایاب ہونے کے باعث ہر بیماری کا علاج شہد سے کرتے تھے۔اس پر بعض لوگوں نے اعتراض بھی کیا مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ عادت نہیں چھوڑی ۔ یہ تمام احادیث مبارکہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ کار قرآن پاک کی آیات کریمہ کی ہی تفسیر ہیں۔اس سے صاف پتنہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کو شہد سے لگاؤ رکھنے کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خود کہہ رہے ہیں۔ گویا مسلمانوں پر آج سے چودہ سو سال پہلے شہد کی شفاء بخش قوتوں کا راز کھول دیا گیا تھا۔ چناچہ مسلمانوں میں شہد کو بطور غذا اور بطور دوا استعمال کرنے کی چودہ سو سالہ روایات موجود ہیں ۔
 

Tuesday, 5 June 2018

نسخہ اول برائے جریان

نسخہ اول برائے جریان۔
سفوف جریان
ھوالشافی
ثعلب مصری پانچ تولہ۔
موصلی سفیدپانچ تولہ۔
برنج ساٹھی، (ساٹھی کے چاول) پانچ تولہ
سنگھاڑا خشک پانچ تولہ۔
کشتہ قلعی ایک تولہ ۔
کھانڈ تمام مذکورہ بالا ادویات کے برابر۔
ترکیب تیاری
مذکورہ بالا تمام ادویات کو باریک پیس کر کھانڈ اور کشتہ قلعی کو خوب اچھی طرح ملا لیں۔
ترکیب استعمال
ایک تولہ صبح اور ایک تولہ شام ہمراہ دودہ گائے جس میں سات عدد کونپل برگد کو جوش دے کر چھانا گیا ہو۔ انشاء اللہ اس سے بے حد فائدہ پہنچے گااور اکیس خوراک میں پورا فائدہ ہوگا۔
یہ سفوف سیلان منی یعنی جریان، سرعت انزال، رقت منی، وغیرہ کو دور کر کے قدرتی امساک پیدا کرتا ہے۔ جو بھائی بہت سی ادویات کو استعمال کر کے مایوس بیٹھے ہوں وہ ذرا اس سفوف کو استعمال کر کے دیکھیں انشاء اللہ تعالیٰ ضرور دعا دیں گے۔
دعاؤں میں یاد ضرور فرمائیں۔

Friday, 20 April 2018

Constipation قبض، کانسٹی پیشن

قبض، کانسٹی پیشن Constipation
تعریف مرض
اس مرض میں اجابت قدرتی طور پر نہیں ہوتی۔ یا پھر رفع حاجت کے وقت زیادہ دیر لگتی ہے۔
وجوہات
کبھی بلغم کی زیادتی ، کبھی دیر ہضم غذاؤں کا با کثرت استعمال سے آنتو ں میں سدے بن جاتے ہیں، ترش چیزوں کا زیادہ استعمال ، خون کی کمی ، جگر و اعصاب کی کمزوری، موٹاپا، بواسیر، رحم کے امراض ، آنتوں کی خشکی، سے یہ عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔
علامات
اجابت کے وقت دیر لگتی ہے، حواس کندہ اور اکثر سر میں درد رہتا ہے ، جسم کی رنگت زرد ہو جاتی ہے، یہ عارضہ دو قسم کا ہوتا ہے ، عارضی قبض اور دائمی قبض، یاد رہے عارضی قبض تو خود بخود ہی دور ہو جاتا ہے مگر دائمی قبض کا علاج ضرور کرنا چاہیئے، کیونکہ اس سے کئی دیگر پیچیدہ امراض پیدا ہو جاتے ہیں

یہاں کلک کر کے ہم سے بذریعہ کانٹیکٹ فارم پر کر کے رابطہ فرمائیں۔
 اگر کانٹیکٹ فارم پر کر کے بھیجنے میں کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل ایڈریس پر ای میل بھیج کر رابطہ فرمائیں۔
 al.heekmat@gmail.com
آپ ہم سے واٹس ایپ پر بھی ربطہ کر سکتے ہیں 03453591419 

سوئے ہضم، ڈس پیپسیا۔ Dyspepsia

    سوئے ہضم، ڈس پیپسیا۔Dyspepsia
تعریف مرض
اس مرض میں معدے کے فعل ہضم میں فرق واقع ہو جاتا ہے لیکن اس کی بناوٹ میں کسی قسم کی خرابھی رونما نہیں ہوتی۔
وجوہات
کھانے پینے میں لا پرواہی ، غذا کو اچھی طرح چبا کے نہیں کھانا، ایک ہی قسم کی غذا روزانہ کھانا، مصالحہ دار غذاؤں کا زیادہ استعمال، خوراک کے ساتھ زیادہ پانی پینا، جگر، لبلبہ، اور آنتوں کی رطوبت کا ناقص یا کم و پیش ہو جانا، گیسٹرک جوس اور پیپ سین پیدا ہونا، رطوبت صفرا وغیرہ کے خواص میں خرابی آجانا، رنج و غم، کثرت مصالحہ، خون کی خرابی، آلات ہضم کی قوت میں کمزوری ، وغیرہ سے بھی یہ عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔
علامات
معدہ کی کا رکردگی میں فرق آجاتا ہے، درد ، گرانی، بے چینی، ترش ڈکاریں ، کبھی دست، کبھی قبض، بدبو دار ڈکار، ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیاں جلنا وغیرہ، اس کی خاص علامات میں شامل ہیں، اگر مرض شدید ہو تو عام کمزوری ، سستی، لاغری، دم کشی، ہاتھ پاؤں میں کھجلی، درد سر، ترش ڈکاریا کھارے ڈکار آنا، پیشاب میں تلچھٹ بیٹھنا، پرانی بد ہضمی، معدہ کے مقام پر دھیما دھیما درد ہونا، کھانا کھانے کے بعد پیٹ پھول جانا، ترش ڈکاریں آتی ہیں اور مریض کمزور ہو جاتا ہے۔

یہاں کلک کر کے ہم سے بذریعہ کانٹیکٹ فارم پر کر کے رابطہ فرمائیں۔
 اگر کانٹیکٹ فارم پر کر کے بھیجنے میں کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل ایڈریس پر ای میل بھیج کر رابطہ فرمائیں۔
 al.heekmat@gmail.com
آپ ہم سے واٹس ایپ پر بھی ربطہ کر سکتے ہیں 03453591419 

Tuesday, 17 April 2018

Piles بواسیر، پائلز

بواسیر، پائلز ۔ (Piles)
تعریف مرض
اس مرض میں مقعد کے اندر یا باہر مسے پیدا ہو جاتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں نمبر ایک خونی ، نمبر دو بادی، خونی بواسیر میں مسوں سے خون رس کر آتا ہے جبکہ بادی بواسیر میں درد اور خارش ہوتی ہے ، خونی بواسیر میں خون کبھی پاخانہ سے مل کر آتا ہے، کبھی بعد از پاخانہ قطرہ قطرہ لگاتارخون کا اخراج ہوتا ہے ۔
قارئین کی آسانی کے لئے یہاں ہم خونی و بادی بواسیر کا علیحدہ علیحدہ بیان درج کرنے کی سعی کریں گے۔

بواسیر خونی پائلز۔( Piles)

ہیمورئیڈس۔ (Haemorrohords)
تعریف مرض
مقعد کے مقام کی رگوں کے منہ پر مسے پیدا ہوجاتے ہیں، پاخانہ سے پہلے یا بعد میں خون کا اخراج ہوتا ہے جو کہ اکثر قطروں کی صورت میں ہوتا ہے ۔
وجوہات
طب قدیم عام طور پر سودادی خون کو بواسیر کا سبب قرار دیتی ہے جو کہ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ یا تو گرم دواؤں کے استعمال ، سرخ مرچوں کی کثرت، گوشت خوری کی زیادتی یا سواد کے ساتھ تیز اور جلی ہوئی صفرا کے مل جانے سے اس میں احتراق لاحق ہو جاتا ہے ، یا سودادی اشیاء مثال کی طور پر مسور اور بینگن کے کثرت استعمال کے سبب سے خون غلظت اور احتراق پیدا کر کے آنتوں تک پہنچتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے نقص کے باعث نیچے کی طرف آنتوں کی رگوں کے ان انتہائی سروں تک پہنچ جاتا ہے جو امعائے مستقیم کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور وہ گندہ مادہ وہاں جلن پیدا کرنے کے علادہ کھچاوٹ پیدا کر دیتا ہے اور ان رگوں کے سرے اس کھینچا تانی کے اثر سے پھول کر ابھر آتے ہیں اور یہی ابھرے ہوئے سرے مسے کہلاتے ہیں ۔ بعض اوقات ان میں شدت کا درد اور تکلیف پیدا ہو جاتی ہے ۔ کبھی اس مقام پر وم کے سبب راستہ تنگ ہو کر سخت قبض کا باعث ہوجاتا ہے، اگر مشکل سے پاخانہ آئے بھی تو مسوں اور متورم رگوں پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے علادہ تکلیف اور درد کے خون بہنے لگتا ہے جو کہ پاخانہ کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا بلکہ کبھی پہلے اور کبھی بعد میں آتا ہے ۔ مرض کی شدت میں کبھی خون اس قدر خارج ہوتا ہے کہ مریض حد درجہ کمزور ہو جاتا ہے ، رنگ ذردی مائل ہوجاتا ہے ، جگر کا فعل درست نہیں رہتا ، آنکھوں پر بھر بھراہٹ پیدا ہو جاتی ہے بھوک کم اور سوء ہضم کی شکایت ہو جاتی ہے کبھی خصیہ ، مثانہ اور کمر میں بھی درد محسوس ہوتا ہے مرض کی شدت کے دوران درد سر لاحق ہو جاتا ہے زبان ہلکی سیاہ ہوتی ہے اور نچلے ہونٹ ہر سفیدی جھلکنے لگتی ہے ۔
طب جدید میں بواسیر کی تین اقسام بتائی گئی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
نمبر1 ۔ اندرونی بواسیر ، جس کے مسے بہت اندر کی طرف ہوتے ہیں اور دیکھے نہیں جا سکتے ۔ ان مسوں سے خون تو آتا ہے لیکن درد بہت معمولی ہوتا ہے۔
نمبر ۲۔ درمیانی بواسیر ، جس میں نہ مسے بہت اندر ہوتے ہیں نہ ہی بالکل باہر ، بلکہ درمیان میں ہوتے ہیں۔
نمبر ۳۔ بیرونی بواسیر ، اس کے مسے باہر کی طرف ہوتے ہیں اور آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں ،اس میں اگر چہ خون کم خارج ہوتا ہے مگر درد شدت سے ہوتا ہے ۔

علامات
اندورنی مسوں سے خون خارج ہوتا رہتا ہے جو کہ براز یعنی پاخانہ کے ساتھ ملا ہوا نہیں آتا ، ان میں درد کچھ نہیں ہوتا ، بیرونی مسوں میں درد لازمی اور شدت کا ہوتا ہے ، مگر ان میں سے خون خارج نہیں ہوتا ۔
جو مسے دبر کے کنارے پر ہوں ان میں دونوں علامات پائی جاتی ہیں ، یعنی درد بھی اور خون کا اخراج بھی جب مرض ترقی کر جاتا ہے یعنی بڑھ جاتا ہے تو مسوں کا حجم یعنی سائز بھی بڑھ جاتا ہے ، اور خروج المقعد کا عارضہ بھی لاحق ہو جاتا ہے ۔ خون کبھی براز کے ساتھ قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے لیکن کبھی اچھا خاصہ خارج ہو جاتا ہے مریض کمزور ہو جاتا ہے ، اس کا رنگ ذرد ہو جاتا ہے ، اور اگر بروقت علاج کی طرف توجہ نہیں دی جائے تو عرصہ دراز تک خون آتے رہنے سے مریض کے جسم میں خون کی کمی ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ جس سے مریض کو کمی خون کا عارضہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔

انتباہ
یہاں ہم یہ بتانا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں کہ کسی بھی اشتہاری دوا سے پر ہیز کریں جیسا کہ آپ بتایا جا چکا ہے کہ بواسیر کی بھی مختلف قسمیں ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے ، مگر بدقسمتی سے اکثر عزیز ہم وطن اشتہاری دواؤں پر اندھا دھن عمل پیرا ہو جاتے ہیں جبکہ دوائی بنانے والا ادارہ یا شخص صرف یہ لکھتا ہے کہ ہر قسم کی بواسیر سے چند یوم میں نجات حاصل کریں۔ یہ ہر گز درست نہیں ہے ۔ مرض کی صحیح تشخیص اور اس کے مطابق داوائیں مختلف ہوتی ہیں۔
بواسیر کا علاج بذریعہ آپریشن بھی کیا جاتا ہے ، مگر دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بذریعہ آپریشن بواسیر کا علاج کتنا کامیاب ہے؟ تو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا سرجن اس بات کی قطعی ذمہ داری نہیں لے گا کہ ایک دفعہ آپریشن کے بعد مرض دوبارہ نہیں ہوگا۔
آپریشن ویسے بھی بہت تکلیف دہ عمل ہے اور مرض کے مکمل ختم ہو جانے کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اگر آپ ہماری رائے پوچھیں تو بواسیر کا بہتر اور سستا علاج ہومیوپیتھک اور حکمت میں موجود ہے، مگر ایک چیز یاد رہے کہ پرہیز تمام زندگی کا ہے ۔ کیونکہ یہ مرض بد پرہیزی سے دوبارہ عود کر آتا ہے چاہے آپریشن کرا لیں یا دنیا کا کوئی سا بھی علاج کرالیں، پرہیز لازمی ہے۔


اللہ نہ کرے اگر آپ مذکورہ بالا شکایات کا شکار ہیں تو برائے کرم اپنی تمام تر صورتحال سے ہمیں آگا ہ کریں۔یاد رہے ہمیں اپنی صورتحال سے تفصیلی انداز میں آگاہ کریں۔ جیسا کہ عمر کتنی ہے؟ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ؟ مرض کتنے عرصہ سے لاحق ہے؟ کسی قسم کی سگریٹ نوشی یا تمباکو کے عادی ہیںیا نہیں؟ کام کس نوعیت کا کرتے ہیں ؟ غذا میں کیا لیتے ہیں؟ سونے کا وقت اور نیند کا دورانیہ اور جاگنےکا وقت۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہاں کلک کر کے ہم سے بذریعہ کانٹیکٹ فارم پر کر کے رابطہ فرمائیں۔
 اگر کانٹیکٹ فارم پر کر کے بھیجنے میں کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل ایڈریس پر ای میل بھیج کر رابطہ فرمائیں۔
 al.heekmat@gmail.com
آپ ہم سے واٹس ایپ پر بھی ربطہ کر سکتے ہیں 03453591419 

حیض کی زیادتی


کثرت ایام یا دنوں کی ذیادتی
تعریف مرض
جب ایام کے دنوں میں حیض کثرت سے آئیں یعنی اس مرض میں خون عام طور سے زیادہ اور بے قاعدگی سے آئے تو اسے کثرت ایام یا کثرت حیض کہتے ہیں ، لیکن جب خلاف معمول زیادہ دنوں تک جاری رہیں تو اسے استخاصہ کہتے ہیں۔
ایام مقررہ میں زیادتی مثال کی طور پر عام حالت میں ایام پانچ دن مقرر ہیں تو آٹھ یا دس دن ہو جائیں یا ایام مقررہ کے علاوہ بھی کسی وقت خون کا جاری ہو نے کو کثرت حیض یا ایام کی زیادتی کے مرض سے موسوم کیا جائے گا۔

وجوہات
بدن میں خون کی زیاتی، صفرا کی آمیزش سے خون کا پتلا ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے رگوں کا منہ کھل جاتا ہے ، بچہ دانی کء عضلات کا ڈھیلا ہو جانا، غلبہ سواد سے رگوں کا منہ کھل جانا، زیادتی ملاپ ، زیاتی اولاد یا جنرل کمزوری سے بچہ دانی کی کمزوری، گرم اشیاء کا با کثرت استعمال، رحم کے امراض جیسا کہ رحم کا ٹل جانا، حمل کا گرجانا، سوزش رحم، یاد رہے کہ ایام ماہواری کے دنوں میں غیر فطری عمل سے بھی یہ مرض لاحق ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
علامات
ایام بکثرت آتے ہیں ، کبھی کبھی کم مقدار میں بار بار آتے ہیں ، کبھی ایک ہی بار میں زیادہ مقدار میں خارج ہوتے ہیں ، کبھی زیادہ خارج ہونے سے مریضہ سخت کمزور اور نڈھال ہو جاتی ہے، قبض ہوتا ہے ، چہرہ پر مردنی سی چھا جاتی ہے ، جسم لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے ، پیڑو اور کمر میں درد ہوتا ہے ، بھوک نہیں لگتی ، کبھی پاؤں پر ورم کی شکایت ہوتی ہے، مرض کی شدت میں کمزوری سے غشی طاری ہو جاتی ہے۔
وجوہات کے مطابق ایام میں درد اور گرانی زیادہ ہوگی، چہرہ اور بدن کی رنگت لال ہوگی ، خون کے زیادہ اخراج ہونے کے باوجود کمزوری معلوم نہیں ہوگی ، خون کا قوام پتلا اور سوجن سے خارج ہوگا، غلبہ بلغم کی صورت میں خون سفیدی مائل اور گاڑھا ہوگا، پستان نرم ہونگے ، کمر میں درد محسوس ہوگا، غلبہ سواد کی حالت میں سیاہ رنگ کا بدبو دار خون خارج ہوگا، دائیں طرف سوجن محسوس ہوگی ، چوٹ یا وضع حمل کی شدید حالت کی صورت میں بچہ دانی کی طاقت کمزور ہو گی ، باقی علامات ظاہر ہوں گی۔


اللہ نہ کرے اگر آپ حیض کی زیادتی جیسے مرض کی کیفیت میں مبتلا ہیں تو برائے کرم اپنی تکلیف کے بارے میں ہمیں مکمل طور پر آگاہ کریں۔ خاص طور پر اپنی تمام علامات بھی بتائیں ۔
یاد رہے ہمیں اپنی صورتحال سے تفصیلی انداز میں آگاہ کریں۔ جیسا کہ عمر کتنی ہے؟ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ؟ مرض کتنے عرصہ سے لاحق ہے؟ غذا میں کیا لیتی ہیں؟ بچے ہیں یا نہیں؟ مرچ مصالحے دار غذائوں کا استعمال کس حد تک کرتی ہیں؟ سونے کا وقت اور نیند کا دورانیہ اور جاگنے کا وقت۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہاں کلک کر کے ہم سے بذریعہ کانٹیکٹ فارم پر کر کے رابطہ فرمائیں۔
 اگر کانٹیکٹ فارم پر کر کے بھیجنے میں کوئی مشکل در پیش ہو تو آپ ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل ایڈریس پر ای میل بھیج کر رابطہ فرمائیں۔
al.heekmat@gmail.com 
آپ ہم سے واٹس ایپ پر بھی ربطہ کر سکتے ہیں 03453591419