Thursday, 23 August 2018

مقوی دماغ ۔ Powerful brain


 
مقوی دماغ ۔
مقوی دماغ اللہ رب العزت کی طرف سے وہ معجزانہ تحفہ ہے جس نے دنیا کووطرہ حیرت میں ڈال دیاہے۔ آپ اس کو آسانی سے بنا کے آزما سکتے ہیں۔عمدہ دماغ اور حافظہ دنیا کی بہترین دولت ہے، مقوی دماغ آپ کا بہترین دماض بنا سکتی ہے ۔ طلباء، اساتذہ، وکلاء، صحافیوں ، کلرکوں اور دماغی محنت کرنے والوں کے لئے نعمت خداوندی ہے۔

مقوی دماغ کے خواص ملاحظہ ہوں۔
 
مقوی دماغ قوت حافظہ اور دماغ کے لئے ایسی زبردست اکسیر ہے کہ جس کے چند روزہ استعمال سے برسوں کی بھولی ہوئی چیزیں یاد آنے لگتی ہیں۔ 
 مقوی دماغ ایسے اصحاب کے لئے جو دماغی محنت کرتے ہوں بہترین نعمت خداوندی ہے۔
مقوی دماغ اللہ کریم کے حکم سے دماغ کی تمام قوتوں میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔
مقوی دماغ استعمال کرلینے کے بعد طبعیت میں خواہ مخواہ مطالعہ کی طرف رغبت آجاتی ہے۔
مقوی دماغ جسم میں چستی ، دل میں فرحت اور دماغ میں تیزی پیدا کرتی ہے۔
مقوی دماغ بھوک کو چمکاتی ہے اور قوت ہاضمہ کو درست کر کے غذا کو جزوبدن بناتی ہے۔
مقوی دماغ زندگی کے لئے کیمیاہے، صحت کے لئے اکسیر ہے، دماغ کے لئے نعمت سے کم نہیں۔
یاد فرما لیں یا ذہن نشین فرمالیں کہ اگر آپکا دل پریشان رہتا ہے تو بہترین شے جو آپ استعمال کر سکتے ہیں وہ مقوی دماغ ہے۔
اگر آپ کی قوت حافظہ اور ذہن اچھی طرح کام نہیں کرتا تو آپ کے لئے بہترین شے جو آپ استعمال کر سکتے ہیں وہ مقوی دماغ ہے۔
اگر آپ دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اللہ کے حکم سے مقوی دماغ کا استعمال آپ لئے بہت بڑی نعمت ثابت ہو سکتا ہے۔ آج کل کے اس نفسا نفسی کے دور میں ہر شخص کو مقوی دماغ کے استعمال کی بہٹ ضرورت ہے۔

نسخہ ملاحظہ ہو ۔ھوالشافی۔
جوہر تر پھلہ ایک تولہ، کشتہ چاندی ایک تولہ۔ دونوں کو کانچ یا چینی کے کھرل میں ڈال کر ملا دیں اور پھر شوگر آف ملک یعنی دودھ کی کھانڈ چار تولہ شامل کر کے ایک گھنٹہ کھرل کر لیں ۔ اور شیشی سنبھال رکھیں ۔ بس نہایت ہی خوش نما اور مفید الاثر دوا تیار ہے۔

ترکیب استعمال۔
چار رتی دوا کو ایک تولہ گائے کے مکھن میں ملا کر بوقت صبح جام نوش فرمائیں ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ایک ماہ کے متواتر استعمال سے دماغی کمزوری رفع ہوجاتی ہے۔اللہ پاک کے حکم سے حافظہ کی قوت میں پیش بہا اضافہ ہو جاتا ہے ۔

آپکی آسانی کے لئے ہم جوہر تر پھلہ بنانے کی ترکیب بھی درج کر دیتے ہیں۔
ہلیلہ، بلیلہ، آملہ ہر سہ کم از کم سیر سیر بھر کر جلالیں اور اس کی خاکستر میں آٹھ گنا پانی ڈال کر لوہے کے مصفا برتن میں ڈال رکھیں۔ اور دن میں تین سے چار مرتبہ پیپل یا برگد کی لکڑی سے ہلاتے رہیں ، اور تین دن گزرنے پر نتھرے ہوئے پانی کو علیحدہ کر کے کسی صاف برتن میں ڈال کر چولہے پر چڑھا دیں اور دھیمی دھیمی آگ پر پکائیں یہاں تک کے تمام پانی جل کر خاکستری مائل سفید رنگ کی چیز باقی رہ جائے اب اس کو کسی چینی کے برتن میں ڈال کر بدستور تین دن رکھ کر صاف پانی نتھار لیں اور چینی کے برتن میں ڈال کر کوئلوں کی آگ پر پکائیں تمام پانی جل جانے پر سفید براق چیز باقی ہر جائے گی۔بس یہی جوہر تر پھلہ ہے جو مقوی دماغ کے اندر پڑتا ہے۔ بنا کر آزمائش شرط ہے۔

نوٹ۔ جوہر تر پھلہ بنانا ہر کس و ناکس کے لئے شاید ممکن نہیں، تو کوشش کریں کہ اپنے کسی قریبی اور اعتماد والے طبیب سے اس کو خرید لیں اور باقی کشتہ چاندی تو آسانی سے مل سکتا ہے باقی دوا بنانا آسان ہے ۔ دوسری صورت میں یہ پورا نسخہ کسی اعتماد والے ایماندار طبیب سے بناوا لیں۔
ہمیں اپنی قیمتی دعاؤں کا حصہ بنانا نہیں بھولیں۔ جزاک اللہ ھو خیر۔

Wednesday, 22 August 2018

عضو تناسل کے حوالے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ کریں۔


عضو تناسل کے حوالے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ کریں۔
میرے عزیز ہم وطنوں آج ہم آپکو عضو تناسل کی طرف سے پھیلی ہوئی ایک غلط فہمی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ عرصہ دراز سے اس بارے میں ہم کچھ لکھنا چاہ رہے تھے مگر قلت وقت کے سبب ممکن نہیں تھا۔
ہمارے پاس روزانہ بیشمار نوجواں اور مردوں کے میسجز ، واٹس ایپ، اور ای میل آتے ہیں جس میں زیادہ ترنوجوان اپنے عضو مخصوص کے چھوٹا ہونے، پتلا ہونے کا ذکر بہت فکر مندی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تو آئیں ہم آپکو حقیقت بتا کر اس غلط فہمی کا ازالہ کریں۔
عضو تناسل لمبائی، موٹائی یعنی سائز میں الگ الگ لڑکوں یا مردوں میں الگ الگ ہوتا ہے، یعنی یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سبھی کا عضو تناسل برابر یا ایک جیسا ہو۔لڑکا جب جون ہو رہا ہوتا ہے تو قدرتی طور پر اپنے جسم کے جنسی اعضاء میں خصوصی دلچسپی لیتا ہے اور اکثر وہ اپنے عضوتناسل کا مقابلہ اپنے ہم عمر ساتھیوں کے عضو تناسل سے کرتا ہے ۔ ایسے کئی نوجوان فکر مند اور پریشان نظر آتے ہیں جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کو عضو خاص دوسروں کے مقابل میں چھوٹا کے اور پتلا ہے یا سائز میں ذرا مختلف ہے ۔ اس ضمن میں لڑکوں کی پریشانی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ محض اس وجہ سے ان کے دل و دماغ پر ایک بوجھ سا ایک خوف سا طاری ہو جاتا ہے کہ ان کا عضو تناسل دوسروں کے مقابلے میں چھوٹا سا یا پتلا سا کیوں ہے ۔ بعض اوقات یہ بھی کہ بڑا یا موٹا کیوں ہے؟ یہ حالت انکو ذہنی طور پر پریشان کر دیتی ہے۔
در حقیقت یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس سے کسی بھی طرح پریشان یا خوف زدہ ہونے کی ضرورت ہے ۔عضو تناسل کی نشونما عام جسمانی نشونما پر منحصر ہے ۔ جس طرح ہمارے جسم کی نشو نما بعض حالتوں میں آہستہ آہستہ ہوتی ہے اور بعض حالتوں میں قدرے تیزی سے اسی طرح عضو تناسل کی نشو نما کی رفتار میں تیزی یا سستی آسکتی ہے ۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی بخوبی سمجھ لینی چاہیئے کہ جس طرح تمام لڑکوں کا جسمانی قد اور مختلف جسمانی اعضاء کی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی بالکل اس ہی طرح عضو تناسل کا سائز بھی اور ساخت بھی ایک جیسی نہیں ہو سکتی ۔ ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ کسی لڑکے کا قد لمبا ہے تو کسی کا چھوٹا ۔ کسی کی ناک تیکھی ہوتی ہے کسی کی چپٹی ، کسی کے ہونٹ موٹے ہوتے ہیں تو کسی کے پتلے۔اس ہی طرح کسی کا عضو تناسل لمبا ہوتا ہے کسی کا چھوٹا، کسی موٹا کسی کا پتلا۔تو یاد رہے کہ اس طرح کے اختلاف سے کبھی پریشان نہیں ہونا چاہیئے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ عضو تناسل کی لمبائی یا موٹائی کے بارے میں کوئی مقررہ سائز نہیں ہو سکتا۔اس بھی بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ عضو تناسل کا ہر سائز نارمل ہوتا ہے ۔ اس کے چھوٹے یا بڑے ہونے اور موٹے یا پتلے ہونے کا اثر کبھی بھی جنسی افعال پر نہیں پڑتا۔ اس لئے نوجوانوں کو اسے کسی بھی حال میں مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیئے ۔ بلکہ اس کے قدرتی سائز سے مطمئن رہنا چاہیئے ۔ یہ سائز میں چھوٹا ہو یا بڑا اس سے کسی طرح کا کوئی فرق مرد کی جنسی طاقت ، اولاد پیدا ہونے کی اہلیت جنسی ملاپ و مباشرت غرض یہ کہ کسی بھی جنسی فعل پر نہیں پڑتا۔جس طرح آنکھیں چھوٹی ہوں یا بڑی، کالی ہوں، سفید ہوں، بھوری ہوں ان کی بینائی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس ہی طرح عضو تناسل کے قد و قامت اور ساخت کا کوئی اثر جنسی طاقت پر نہیں پڑتا۔
ہاں صرف دیکھا یہ جائے گا کہ عضو تناسل میں ایستادگی کی طاقت کتنی ہے، کسی بھی قسم کی کوئی کجی، کمزوری، لاغری یا ڈھیلا پن مشت زنی کے بہت اہم نقصانات میں سے ہے۔ اور اس کا علاج از حد ضروری ہے۔
امید ہے کہ ہم اپنی بات سمجھانے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔

دعاؤں کی گزارش ہے ۔اللہ پاک ہمارا اور آپ کا حامی و نگہبان ہو۔ (آمین)

Friday, 17 August 2018

دل اور سر کی بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد اور دیگر اجزاء

دل اور سر کی بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد اور دیگر اجزاء

اللہ کریم رب العزت نے دل کو سر چشمہ حیات بنایا ہے، اس کی باقاعدہ حرکات پر ہی زندگی کا تمام دارومدار ہے۔ جب صعف تونائی اور دیگ آفات کے باعث دل کی حرکت سست ہو جاتی ہے اور مریض ہر وقت موت کا منظر دیکھا کرتا ہے۔ تقویت دل کے خوالے سے دو آزمودہ نسخے آپکی نظر کر رہے ہیں۔

نسخہ نمبر ۱۔ شہد تقویت دل کے لئے ایک نعمت متبرقہ کی حثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ اپنی غذا کے ساتھ ایک بڑا چمچ شہد کھا لیا کریں تو یقین جانیں اللہ کے حکم سے آپ کو کبھی دل کا کوئی آرضہ نہیں ہوگا۔

نسخہ نمبر ۲۔ شہد میں قوری عافیت بخشنے اور نڈھال گری گری طبعیت کو بحال کرنے کی پوری پوری صلاحیت اس ذات باری تعالیٰ نے رکھی ہے۔اگر آپ کی طبعیت نڈھال ہو یا کمزوری محسوس کر رہے ہوں تو بلا تامل ایک چمچ شہد چاٹ لیں انشاء اللہ فوری طبعیت بحال ہو جائے گی۔

سر کی بیماریاں اور بال گرنے کا علاج بذریعہ شہد۔
سر کی بیشمار بیماریوں کے لئے شہد ایک مفید اور موثر دوا ہے۔ یہ دماغ کو فضول مادوں سے پاک کر کے اسے انتہائی تقویت دیتا ہے ۔حافظہ تیز کرتا ہے او ر امراض باردہ ، عصبیہ، دماغیہ کے لئے فائدہ مند ٹانک ہے۔

نمبر ۱۔ سر چکرانے کا علاج بذریعہ شہد۔
سر چکرائے تو اس کے لئے مہندی کے بیج چار کرام اور شہد دس گرام لیں۔ پہلے مہندی کے بیجوں کا باریک سفوف بنا لیں پھر اس میں شہد ڈال کر خوب ملا لیں دن میں دو یا تین مرتبہ لیں۔ انشاء اللہ بے حد فائدہ ہوگا۔

نمبر۲۔ درد شقیقہ یعنی آدھے سر کے درد کا علاج بذریعہ شہد۔
یہ درد سر کے ایک جانب نصف حصے میں ہوتا ہے۔زیادہ تر طلوع آفتاب کے وقت شروع ہوتا ہے اور اور غروب آفتاب کے بعد اس میں تخفیف ہونے لگ جاتی ہے ۔ اور مرض کی شدد میں سر میں بے انتہا درد ہوتا ہے اس کو وہ ہی محسوس کر سکتا ہے جو اس میں مرض میں مبتلا ہو۔ اس کے لئے آپکو چاہیئے کہ ایک بوند شہد لے کر سر درد والے حصے کے مخالف نتھنے میں ڈال دیں انشاء اللہ فوری آرام آئے گا۔ یاد رہے درد شقیقہ کو عام زبان میں آدھے سر کا درد بھی کہا جاتا ہے۔

نمبر۳۔ گنجے پن کا علاج بذریعہ شہد۔
گنجے پن کے لئے پیاز کا رس اور شہد ہم وزن لیں اور سر کے گنجے یا کم بالوں والے حصے کی جگہ ہلکء ہاتھ سے ملیں۔ ایک ہفتہ متواتر یہ عمل جاری رکھیں انشاء اللہ تعالیٰ عزوجل بال پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔

Thursday, 9 August 2018

عورتوں کی مخصوص بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد و دیگر اجزاء۔ Treatment for women's Specific Problems by Honey

عورتوں کی مخصوص بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد و دیگر اجزاء۔
شکایت رحم اکثر خواتین کو یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ اور اس کی بہت سے علامات ہوتی ہیں اور بہت سے علاج کئے جاتے ہیں۔ یہاں ہم ایک مجرب اور سریع الاثر دوا کا ذکر کریں گے جو ورم رحم، زخم رحم اور بندش حیض جیسے مسائل کو ختم کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور سب سے بڑ ھ کر یہ کہ اس دوا کے استعمال کرنے کے فوری بعد یہ اپنا اثر شروع کر دیتی ہے جو کہ باعث تشفی ہوتا ہے۔

نمبر ۱۔ رحم کی سوجن (ورم رحم ) کا علاج۔
رحم کی سوجن یا ورم کے لئے ریوند خطائی، گائے کا گھی اور شہد۔سب سے پہلے ریوند خطائی کو باریک پیس کر اسے گائے کے گھی سے تر کریں پھر اس میں شہد حل کر کے آمیزہ بنا لیں پھر اس میں فیتلہ تر کر کے اسے رحم کے اندر داخل کریں ۔ اس نسخے سے رحم کے زخم یا سوجن بہت جلد اچھے ہو جائیں گے اور خاص کر ورم رحم یا مواد کے اجتماع کے لئے بے حد مفید ہے ۔ اس سے رحم صاف ہو جاتا ہے ، خون حیض کھلنے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ اللہ نبارک و تعالیٰ کے حکم سے درد میں راحت و تسکین محسوس ہوتی ہے۔

نمبر ۲۔ ساخت حمل جاننے کا طریقہ۔
شہد سات ماشہ پانی میں حل کر کے عورت کو نہار منہ پلائیں ۔ اگر اس کے پینے سے مروڑ ہو تو یقین کر لینا چاہیئے کہ حمل ہے ورنہ نہیں۔

نمبر ۳۔ بانچھ پن کا علاج۔
بانچھ پن کے لئے اسگند ھ دو تولہ لے کر نصف کلو پانی میں جوش دیں۔ جب پانی چوتھائی حصہ باقی رہ جائے تواس کو چھان کر دو تولہ شہد سے میٹھا کر لیں ۔ اور جب شہد خوب اچھی طرح حل ہو جائے تو گائے کا گھی ایک تولہ ۔ گائے کا دودھ کپ چھنٹانک اورمصری ایک تولہ ملا کر شام کے وقت پی لیا کریں اور احتیاط کریں کہ یہ دوا حیض سے فراغت کے بعد استعمال کی جائے۔

نمبر ۴۔ احتباس حمل کا علاج۔
یہ ایک نہایت تکلیف دہ مرض ہے جس میں عورت کو حیض کھل کر نہیں آتا یا بالکل بند ہو جاتا ہے ۔جو کہ کئی دوسرے قسم کے امراض کا سبب ہو جاتا ہے جیسے کہ حمل قرار نہیں پانا۔ آپ کو چاہیئے کہشونیز، انسیون، تخم گاؤزبان، مکو پادینہ، جنگلی ہر ایک نو ماشہ تخم سداب، نانجورہ، دار چینی، زعفران ہر ایک سات ماشہ اس کے علاوہ تخم کرنس چھ ماشہ، تخم خربوزہ ڈیڑھ تولہ ، گل سرخ اڑھائی تولہ ، سبل الطبیب آٹھ ماشہ، حب القرطم، سونف، پرسباؤستاں، تخم ثبت، تخم کانسی، ہلیلہ کابلی، ابیل ، تخم ترب ، تخم خطمی، مونیر منقیٰ ، انجیر ذرد ہر ایک ایک ، ایک تولہ ۔ ہر ادویہ کو پیس کر رات کے وقت پانی سے تر کریں اور صبح اٹھ کر جوش دے کر صاف کر لیں پھر اس میں خالص شہد تین تولہ ملا کر پھر پکائیں تاکہ پانی جذب ہو کر صرف شہد رہ جائے۔

ترکیب استعمال۔
یہ شربت بنا کر بقدر چھ ماشہ دن میں تین بار صبح دوپہراور شام ہمراہ عرق سونف پانچ تولہ استعمال کریں ۔ حیض کی تمام شکایتیں اللہ کریم کے حکم سے دور ہو جائیں گی اور اعصاب بھی قوی ہو جائیں گے انشاء اللہ۔

نمبر ۵۔بندش حیض کا علاج۔
بندش حیض کے لئے آپکو چاہیئے کہ انگور کے رس میں شہد اور پسے ہوئے چھواروں کا سفوف ملا کر استعمال کریں انشاء اللہ حیض کھل کر آنے لگے گا۔

نمبر ۶۔ سیلارحم (لیکوریا) کا علاج۔
لیکوریا کے لئے انگور کا رس ایک چمچ اور شہد بھی ایک چمچ دونوں کو ملا کر استعمال کریں ۔ جو خواتین سیلان رحم میں مبتلا ہیں ان کے لئے یہ نسخہ بہت مفید ثابت ہوگا۔ یاد رہے گرم اشیاء سے لازمی پرہیز کریں۔

نمبر ۷۔ زنانہ بانچھ پن کا علاج۔
بعض دفعہ بچہ دانی میں کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کے باعث حمل نہیں ٹھرتا، اس دوران شہد کو دودھ یا پانی میں حل کر کے روزانہ استعمال کرنے سے بانچھ میں فائدہ ہوتا ہے۔

نمبر ۸۔ماہورای کا آسان علاج۔
ماہواری کے لئے ایک تولہ کی مقدار میں مصبر ہد مکی اور سونٹھ لے لیں ، ہیرا کیس اور کیسر زعفران تین تین ماشہ لے لیں ۔ سب دوائیں پیس کر شہد میں گوندھ لیں اور چنے کے برابر گولیاں بنا لیں ۔ ماہواری شروع ہونے سے چار یا پانچ دن پہلے صبح و شام ایک ایک گولی نیم گرم دودھ میں ایک تولہ شہد اصلی ملا کر کھلائیں اور ایام ختم ہونے تک جاری رکھیں۔ انشاء اللہ بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔


نمبر ۹۔قرار حمل کا علاج۔
قرار حمل کے لئے اسگندھ ناگوری کوٹ لیں اور دگنے شہد میں ملالیں ۔یہ معجون سی بن جائے گی پیالی بھر گائے کے دودھ کے ساتھ یہ معجون ایک تولہ کھلائیں جب حیض سے فارغ ہوں تو نہا نے کے بعد ایک ہفتہ تک دو تولہ شہد اور گائے کا گھی ایک تولہ ملا کر صبح کو استعمال کریں ۔ دو سے تین ماہ باقاعدگی سے یہ عمل جاری رکھیں انشاء اللہ تعالیٰ حمل قرارپا ئے گا۔


نمبر ۱۰۔ اندام نہانی کی تنگی کے لئے موثر علاج۔
اگر اندام نہانی زیادہ کھلی ہو جائے تو اس صورت میں مکوہ کا عرق اور شہد کو ایک ساتھ ملالیں ۔ پھر صاف کپڑے یا روئی میں بھگو کر کسی تجربہ کار نرس سے کی مدد سے اندر رکھوالیا جائے اور مسلسل چند راز یہ عمل کیا جائے تو شفاء حاصل ہوگی۔
 

Friday, 3 August 2018

حب کبیر اور معجون سقنقور معجون سقنقور درجہ اول

حب کبیر اور معجون سقنقور معجون سقنقور درجہ اول




حب کبیر اور معجون سقنقوردرجہ اول کے خواص ملاحظہ ہوں۔
حب کبیرکے خواص۔
حب کبیر سو فیصد قدرتی جڑی بوٹیوں اور بہت قیمتی اجزاء سے تیار کردہ مرکب ہے۔ اس کو بہت جانفشانی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹیبلیٹ کے خواص بہت سارے جس میں سر فہرست یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جنسی قوت اور طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے ۔ویسے تو اس کا اثر جسم کے تمام اعضاء پر ہوتا ہے مگر خاص کر عضوتناسل پر اس کا بہت زبردست اثر ہوتا ہے جس سے اعضاء مخصوص کی کار کردگی بڑھ جاتی ہے۔حب کبیر میں موجود قیمتی جڑی بوٹیوں کے ہونے کی وجہ سے دوران خون تیز ہو کر شہوت کے وقت عضو مخصوص کی طرف دوڑ جاتا ہے جس سے عضوخاص میں بے پناہ سختی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ جس سے عضو مخصوص اپنا کام پوری طرح کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔یاد رہے کہ حب کبیر ان حضرات کے لئے بہت سود مند ثابت ہوتی ہے جن کا عضو خاص سست اور ڈھیلا ہوتا ہے اور وقت سے پہلے انزال ہو جاتا ہے ۔حب کبیر میں قیمتی جڑی بوٹیاں ذہنی اور جسمانی طاقت کے لئے بھی اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ مکمل کورس، خوراک اور دیگر معلومات کے لئے ان باکس کریں۔اس کے ساتھ ہمارے مطب کا معمول معجون سقنقور درجہ اول بھی استعمال کرایا جاتا ہے۔
معجون سقنقور درجہ اول کے خواص۔
معجون سقنقور درجہ اول بہترین دواؤں سے ترتیب دیا گیا ہے ۔یہ بہت اعلیٰ درجہ کامقوی باہ اور برسوں کا آزمودہ ہے۔یہ ان حضرات کے لئے بہت موزوں ہے جو کمزوری باہ میں مبتلا ہیں وہ حضرات اس سے بہت اچھا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ معجون سقنقر درجہ اول تمام اعضاء رئیسہ اور بالخصوص عضومخصوص کو طاقت بخشتا ہے ۔ اعصاب و عضلات میں طاقت و سختی پیدا کر کے جوش اور قوت کو بر قرار رکھتا ہے۔ مردانہ قوت میں اضافہ کے لئے بہترین ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ معجون سقنقور درجہ اول مستقل فائدہ کے لئے بے مثال دوا ہے۔
انتباہ: جن حضرات کو حب کبیر درکار ہے وہ پہلے ہمیں اپنی پوری جسمانی صحت کے حوالے سے آگاہ کریں ۔ اور ہمارے چند سوالوں کے جواب دیں ۔ پھر ہم اگر محسوس کریں گے کہ ان کو اس کی ضرورت ہے تو یہ کورس کرائیں گے ورنہ کوئی دوسرا کورس تجویز کریں گے۔
نوٹ: محض پیسہ کمانا ہی ہماری منشاء نہیں ۔ ہم اشتہاری انداز میں دوا نہیں دیتے جب تک ہم اچھی طرح جانچ پڑتال نہیں کرتے کہ کونسی دوا کس کے لئے کس عمر میں اور کس مسئلہ میں موزوں ہو سکتی ہے ہم دوا نہیں دیتے۔یاد رہے ہر دوا ہر شخص کے لئے موزوں نہیں ہوتی ۔امید ہے اللہ رب العزت ہماری اس کاوش اور انداز کو پسند فرمائے گا۔ اور مستفید ہونے والے بھائی ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔

Wednesday, 25 July 2018

سینہ اور پھیپڑوں کی بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد Treatment of Chest and lung diseases by honey.



سینہ اور پھیپڑوں کی بیماریوں کا علاج بذریعہ شہد۔
شہد پھیپڑوں کو تقویت دیتا ہے کھانسی اور نزلہ کی بہترین دوا ہے۔یہ حلق کی خشکی اور تنفس کی تکلیف کو دور کرتا ہے ۔ سینہ کو ردی مواد سے صاف کرتا ہے ۔ کھانسی اور دمہ کے مرکبات کیلئے جزو اعظم ہے۔

نمبر ۱۔ کھانسی کا علاج بذریعہ شہد۔
کھانسی کے لئے آپکو چاہئے کہ ادرک کا رس بارہ ملی لیٹر اور شہد بارہ گرام لیں۔ ادرک کو کچل کر اس کا پانی حاصل کریں پھر اس میں شہد ملائیں پھر دن میں دو یا تین بار استعمال کریں ۔انشاء اللہ یہ کھانسی کے لئے بہت مجرب دوا ثابت ہوگی۔

نمبر۲۔ بلغمی کھانسی کا علاج بذریعہ شہد ۔
بلغمی کھانسی کے لئے سونٹھ ، ناگ موتھا پاست او رہلیلہ تینوں چیزیں ہم وزن لیں اور پیس لیں اور اس سے دگنی مقدار میں شہد شامل کر لیں۔ اور کچھ سخت ہونے پر اس کو گولیاں بنا لیں ۔ دن م یں تین یا چار گولیاں چوسنے سے معمولی اور پرانی کھانسی سے بھی نجات مل جائے گی۔

نمبر ۳۔ خشک کھانسی کا علاج بذریعہ شہد۔
خشک کھانسی کے لئے تخم خشخاش سفید تین تولہ، نشاستہ کتیرا، صمنع عربی ہر ایک چودہ ماشہ ، مغز تخم کدو شیریں، مغز بیدانہ شیریں، ہر ایک دس ماشہ ۔ سب دواؤں کو باریک پیس کر شہد میں ملائیں اور خشک کھانسی والے کو تھوڑا تھوڑا چٹاتے رہیں۔

نمبر ۴۔ نزولی کھانسی کا علاج بذریعہ شہد۔
یہ کھانسی نزلہ کے باعث ہوا کرتی ہے ۔ زیادہ تر سردیوں میں یا پھر بعض دفعہ گرمیوں میں بھی ہو جاتی ہے۔ اس میں ناک کی اندرونی جھلی ماؤف ہو جاتی ہے اور اس میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس سے رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے یاد رہے اس کو نزلہ کھانسی کہتے ہیں ۔شہد اس قسم کی کھانسی کے لئے بیحدہ مفید اور عمدہ دوا ہے۔جس کے لئے چند مفید نسخہ درج ذیل ہے۔
نسخہ ۔
عرق برگ تلسی ایک تولہ ، شہد ایک تولہ ملا کر مریض کو پلائیں تو نزلہ کھانسی سے مریض کو چھٹکارہ مل جاتا ہے۔

نمبر ۵۔ لعوق کھانسی ۔
لعوق کھانسی کے لئے کا کڑا سنگی ایک تولہ۔ ملٹھی کا سفوف تین ماشہ، منقیٰ بیج نکلا ہوا گیارہ دانے۔ تینوں اشیاء کو ملا کر ایک چھنٹانک شہد شامل کر دیں ۔یہ لعوق یعنی چٹنی سی تیار ہو جائے گی۔بچوں کو چنے کے برابر اور بڑوں کو دگنی مقدار میں صبح و شام چٹائیں ۔ اللہ کریم کے حکم سے بہت فائدہ ہوگا۔

نمبر ۶۔ دمہ کا علاج بذریعہ شہد۔
دمہ کے لئے جنگلی پیاز کا چھلکا اتار کر ایک پاؤ کی مقدار میں لیں ۔آدھا سیر بیج نکلا ہوا منقیٰ بھی لیں ۔ ڈیڑھ چھنٹانک خشک انجیر اور آدھا چھنٹانک متھیرے پھر یہ تما چیزیں دو سیر پانی میں بھگو کر رکھ دیں ۔پھر صبح اس پانی کو پکائیں یہاں تک کہ دوائیاں لیس چھوڑ دیں ۔پھر اسکو اچھی طرح مل لیں اور چھان کر اس میں آدھا سیر شہد ملائیں اور ہلکی آنچ پر پکائیں ۔اس کو اس قدر پکائیں کہ تمام فالتو مال ختم ہو جائے اور صرف شہد پاقی رہ جائے ۔ اس شہد کو کسی بڑے منہ والے برتن یا شیشی میں محفوظ کر لیں ۔اس دوا کی خوراک بلحاظ عمر اور مرض چائے والے ایک سے تین چمچ ہے۔ یہ بلغم خارج کرنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ اور اللہ کے حکم سے دمہ میں سانس کی بحالی کے لئے بھی اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔

نمبر ۷۔ سینہ کا درد کا علاج بذریعہ شہد۔
سینے کے درد کے لئے شہد خالص بارہ گرام ، میتھی کے بیض بارہ گرام پھر میتھی کے بیجوں کو ایک سو بیس ملی لیڑ پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور شہد ملا لیں دن میں دو بار پئیں انشاء اللہ فائدہ ہوگا۔

نمبر ۸۔ پسلی کا چلنا علاج بذریعہ شہد۔
اس مرض میں بچوں کا سانس تیز ہو جاتا ہے ۔ سانس لیتے وقت پسلیوں کے نیچے گڑھا پڑ جاتا ہے کھانسی ، شدید بخار اور درد بھی ہوتا ہے ۔اور چہرہ بھی سرخ ہو جاتا ہے ۔سانس لیتے وقت نتھنے بھول جاتے ہیں بچہ بے چین رہتا ہے ۔ ذیل میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے خالص نیک نیتی کی بنیاد پر چند نسخہ جات پیش کئے جا رہے ہیں۔ امید ہے آپ ہمیں اپنی دعا ؤں میں یاد رکھیں گے۔
نسخہ نمبر ا۔ میتھی اور السی دو گرام اور شہد چھ گرام ۔ السی اور میتھی کو ساٹھ ملی لیٹر پانی میں جوش دیں اور چھان لیں اس کے بعد شہد ملا لیں اور دن میں تین سے چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا استعمال کرئیں۔
نسخہ نمبر ۲۔ نوشادر ایک گرام، لوبان ایک گرام اور شہد چھ گرام لیں اور لوبان اور ناشادر کو ایک ساتھ پیس کر باریک سفوف بنا لیں۔ پھر اس مین شہد ملائیں دوا تیار ہے۔ دن میں ایک سو پچیس ملی گرام تین بار چٹائیںیہ بچوں کے پسلی چلنے کے لئے بیحد مفید ثابت ہوگا۔
نسخہ نمبر ۳۔ لہسن حسب ضرورت ، شہد بارہ گرام ، لہسن کچل کر اس کا تین ملی لیٹر پانی نکا لیں پھر اس میں شہد کو اچھی طرح ملا لیں ۔ دن میں تین بار چٹائیں۔
نوٹ: مندر جہ بالا دیئے گئے تینوں نسخے پسلیوں کے چلتے وقت بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔انہیں استعمال کرنے سے سینے کی بقیہ بیماریاں بھی مدھم ہوتی جاتی ہیں۔

نمبر ۹۔سل کا علاج بذریعہ شہد۔
سل جو کہ ایک خطرناک بیماری ہے اس میں پھیپڑوں میں ایک ردی مادہ پیدا ہو کر اس کی جگہ گانٹھ کی مانند ابھار پیدا ہو جاتا ہے اس طرح کئی کئی گانٹھیں اور پھنسیاں پیدا ہوتی ہیں پھر یہ سب آپس میں مل کر ایک بڑا ابھار کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔جو کہ بعض اوقات اخروٹ کے برابر ہوتا ہے۔اس کے ساتھ بخار اور کھانسی لازم ہے۔ پھر یہ پھوڑا بن جاتا ہے جس میں سے پیپ بھی خارج ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ اللہ کریم کے حکم سے شہد اپنے شفاء بخش اثر سے سل کے واسطے بھی اچھی دوا ثابت ہوتا ہے۔ذیل میں انتہائی نیک نیتی اور خالص اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے چند نسخہ جات پیش کئے جا رہے ہیں ۔امید ہے ہماری اس کاوش کو اللہ کریم پسند فرمائے گا اور قارئیں اس سے استفادہ حاصل کر کے اپنی دعاؤں میں یاد فرمائیں گے۔
نسخہ نمبر ۱۔ شاخ گوزن سوختہ ، گؤ دنتی سوختہ، سرطان رب سوختہ، ہر ایک دو دو تولہ لیں ۔ صمنع عربی، کتیرا، رب السوس ، خالص بانسہ ہر ایک دو دو تولہ لے کر اچھی طرح کھرل کر لیں۔ جب دوا اچھی طرح پس کر تیار ہو جائے تو بقدر تین ماشہ لے کر شہد دو تولہ کے ساتھ صبح ، دوپہر اور شام چٹائیں انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔
نسخہ نمبر ۲۔ تیز پات، چھوٹی الائچی ، دار چینی ۔ہر ایک نو ماشہ طباشیر سوا تولہ ۔ ان تما م ادویات کو پیس کر تیس تولہ شہد میں شامل کر لیں اور صبح کے وقت دودھ کے ساتھ تین ماشہ سے ایک تولہ تک اور شدید حالت میں دو تولہ تک کھلایا جا سکتا ہے۔ سل کے لئے حکماء قدیم کا آزمودہ نسخہ آپکی نظر کر دیا۔ امید ہے دعا فرمائیں گے۔

Saturday, 21 July 2018

جگر و تلی کی بیماریایوں کا علاج بذریعہ شہد اور دیگر اجزاء Treatment of liver and stomach diseases by honey and other ingredients

جگر و تلی کی بیماریایوں کا علاج بذریعہ شہد اور دیگر اجزاء
اس بیماری میں کمزوری اور دبلا پن ہو جاتا ہے چہرے کا رنگ خون کی کمی کی وجہ سے پھیکا پڑ جاتا ہے ۔یاد رہے کہ جگر غذا کے رس سے خون بنانے کا کام سر انجام دیتا ہے اور جب جگر کمزور ہو جاتا ہے تو خالص خون کم مقدار میں پیدا ہوتا ہے ۔ کمزوری روز بروز بڑھتی ہی جاتی ہے۔

نمبر ۱۔ جگر کی بیماری (ضعف جگر ) کا علاج بذریعہ شہد اور دیگر اجزاء۔
ضعف جگر کے لئے شہد ڈھائی تولہ گائے کے دودھ میں یا بحالت مجبوری بغیر دودھ کے کھلایا کریں تو جگر کی شکایت دور ہو جائے گی ۔ یا پھر صرف خالص شہد ہر روز تین تولہ کھلایا کریں جگر کی خرابی کے لئے نہایت مفید ہے۔

نمبر۲۔ اکسیر جگر۔
شہد خالص اڑھائی تولہ گائے کے دودھ میں حل کر کے پلایا کریں تو انشاء اللہ ضعف جگر کی شکایت دور ہو جائے گی۔

نمبر ۳۔ کمزوری جگر اور تلی کا علاج بذریعہ شہد۔
خالص شہد دو تولہ گائے کے دودھ کے ساتھ کھانے سے کمزوری جگر و تلی رفع ہو جاتی ہے یا پھر روزانہ صبح سے تین سے نو چھنٹانک گائے کے دودھ میں ایک تا آدھا چھنٹانک شہد حل کر کے پلایا کریں ،چند ہفتہ ایسا کرنے سے انشاء اللہ کمزوری جگر رفع ہو جائے گی اور چہرے پر خون کی جھلک آجائے گی۔
نسخہ نمبر ۱۔
شہد بارہ تولہ ، زعفران اصل کشمیری چھ ماشہ، دار چینی ایک تولہ ۔ دونوں کو ملائیں اور ایک ایک تولہ صبح و شام کھائیں یہ ضعف جگر میں بیحد مفید ثاب ہوگی انشاء اللہ۔
نسخہ نمبر ۲۔
شہد کے ساتھ ایک تولہ مغز پستہ صبح کھائیں۔ یہ تلی اور جگر کے امراض میں بہت فائدہ دیتا ہے بلکہ اللہ کے حکم سے اس سے جگر اور تلی کے مدے بھی کھل جاتے ہیں۔

نمبر ۱۔ استسقاء کا علاج بذریعہ شہد۔
استسقاء کے علاج کے لئے پونے تولہ شہد پانی میں حل کریں روزانہ پینے سے مرض استسقاء ختم ہو جاتا ہے اور پیٹ اپنی اصلی حالت میں آجاتا ہے۔

نمبر ۲ ۔ استسقاء کا علاج ۔
استسقاء کے لئے ایک چھنٹانک زنجبیل زعفران ہر ایک چھ ماشہ پیس کر ملائیں ۔ خوراک ایک تولہ صبح ایک تولہ شام لیں یہ استسقاء طبلی میں سود مند ہے۔
نمبر ۳۔ یرقان یعنی پیلیا کا علاج بذریعہ شہد۔
یرقان کے مریض کے لئے گل تازہ نیم ۳۵ گرام، شہد خالص ۱۲ گرام گل کو کچل کر ۱۲۰ لیٹر پانی میں جوش دیں یہاں تک کہ آدھا رہ جائے ۔ چھان کر ٹھنڈا ہونے دیں پھر شہد ملائیں اور دن میں دو بار لیں۔

خون کی کمی کا علاج بذریعہ شہد۔
جن لوگوں میں خون کی کمی ہو جاتی ہے اور ان کا رنگ بھی ذرد پڑ جاتا ہے ، ساتھ میں بدن بھی سوکھ جاتا ہے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے لوگوں طرح طرح کی اشتہاری دوائیں استعمال کرتے ہیں ، لیکن آفاقہ نہیں ہوتا۔ اگر ایسے لوگ جن میں خون کی قلت ہو وہ تمام دوائیں چھوڑ کر صرف تھوڑا سا پانی اور تھوڑا شہد ملا کر پی لیا کریں تو اللہ کریم کے حکم سے پہت فائدہ ہوگا۔اور ساتھ میں ان کی تونائی بھی بحال رہے گی۔

نمبر ۵ ۔ تلی کے بڑھ جانے کا علاج۔
اگر اللہ نہ کرے تلی بڑھ جائے اور نوبت آپریشن تک آپہنچے تو اس صورت میں شہد کا فوری طور پر سہارا لیں ۔شہد کو اونٹنی کے دودھ میں ملا کر صبح و شام پلائیں اور یہ عمل مسلسل جاری رکھیں ۔ انشاء اللہ تیر بہدف علاج ثابت ہوگا۔۔ یاد رہے اس میں عرق مکوہ اور شہد کا کا استعمال بھی بہت سود مند ہے۔


استسقاء اور یرقان۔
شہد بارہ گرام بتھورا کے بیج نو گرام دونوں کو ملا کر روزانہ پینا استسقاء اور یرقان کے لئے یکساں مفید ہیں۔


یرقان
یرقان کی حالت میں انار کے خالص پانی میں شہد ملا کر دن میں کئی بار پلانے سے یرقان ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ ان سب امراض میں چکنائی اور گرم اشیاء مثال کی طور پر سرخ مرچ اور نمک کا پرہیز ضروری ہے۔
بزرگوں کء چند آزمودہ اور تیر بہدف نسخہ جات آپکی خدمت میں پیش ہیں۔ امید ہے اپنی دعاؤں میں یاد فرمائیں گے۔


نسخہ نمبر ۱۔
دل کی تقویت کے لئے آپ شہد کا ایک کھانے کا چمچ روزانہ استعمال کریں۔ چاہے خالی پیٹ دودھ میں ڈال کر یا پھر دہی میں ملا کر بھی کھا سکتے ہیں۔اس طرح دل کو زبردست تقویت پہنچتی ہے۔
نسخہ نمبر ۲۔
اگر آپ کو سکی وقت دل بیٹھتا محسوس ہو تو چائے کا ایک چمچ شہد چاٹ لیا کریں ۔ انشاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگا۔
نسخہ نمبر ۳۔
اگر آپ کو اعصابھی تھکن محسوس ہو تو ایک چمچ شہد چاٹ لیا کریں صرف بیس منٹ میں تھکن دور ہو جائے گی اور آپ تازہ دم ہو جائیں گے۔ یا پھر اعصابی کھنچاؤ کے مریض کو ایک گلاس پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر پلائیں ۔
نوٹ ۔ اگر آپ شہد کو غذا کا مستقل جز بنا لیں تو اللہ کریم کے حکم سے جگر کی کسی بیماری کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔